نئی دہلی/ الہ آباد،20/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے پر دہلی کی یونیورسٹی ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلباء پر پولیس کی بربریت کے معاملہ پر جمعرات کے روز دہلی ہائی کورٹ اور الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت کی گئی۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے اور معاملہ کی سماعت کے لئے 4 فروروی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ کے طلباء کو فوری راحت دینے سے انکار کر دیا اور معاملہ کو کافی دنوں کے لئے ٹال دیا ہے۔
ادھر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں کیمپس کے اندر طلبہ پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کے ضمن میں داخل مفاد عامہ کی عرضی پرسماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست کی یوگی حکومت سے ایک ہفتے کے ا ندر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت اب اس معاملے کی سماعت 2 جنوری کو کرے گی۔
چیف جسٹس گوند ماتھر اور جسٹس وویک ورما کی بنچ نے الہ آباد کے محمد امان خان کی پی آئی ایل پر جمعرات کو یہ ہدایت دی۔ وہیں دوسری جانب ریاستی حکومت کی جانب سے پی آئی ایل کی صحت پر سوال اٹھائے ہیں۔ حکومت کے مطابق اگر ہاسٹل کو زبردستی خالی کرایا گیا ہے تو کوئی متأثرہ طالب علم نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا۔ یہ الزام کی کچھ طالب علم لاپتہ ہیں ایسے طلبہ کے اہل خانہ عدالت کیوں نہیں گئے۔ عرضی میں من مانی اور بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حالانکہ عدالت نے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
جامعہ تشدد معاملہ پر دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر نے متعدد عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ، دہلی پولیس اور جی این سی ٹی ڈی کو جواب داخل کرنے کے لئے نوٹس جاری کیا ہے۔ تاہم، فی الحال عدالت نے طلبہ کے حق میں کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عرضی گزاروں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ طلباء کے خلاف پولیس کی کارروائی بند کی جائے۔ عدالت نے طلبا کی گرفتاری پر روک لگانے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے سلمان خورشید بھی عدالت میں پیش ہوئے۔